ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے سینـچر کو عرب پریس سے گفتگو میں شام میں حکومت کے مخالفین کو مغرب اور بعض عرب حکومتوں کی جانب سے اسلحہ دیئے جانے اور فوجی مداخلت کی کوششوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اور خطے کی بعض حکومتیں شام میں جو کچھ کررہی ہیں وہ شام کی عوامی حکومت کے خلاف یک طرفہ کاروائی اور تمام مسلمہ دنیاوی اور آسمانی اصولوں کے خلاف ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے مسلح دہشتگردوں کے ہاتھوں شام کے نہتے اور بے گناہ عوام کے قتل عام کا سلسلہ جلد از جلد بند ہونا چاہئے ، شام میں قیام امن کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس تعلق سے شام کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور مصر اور سعودی عرب کے ساتھ تبادلہ خیال اور مشورت کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور اس نے شام کے بحران کے حل کے لئے ایک چھے نکاتی فارمولا پیش کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شام کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کے صدر اور نظام حکومت کا انتخابات کے ذریعے تعین کریں اور کوئی بھی ملک شام کے عوام کا یہ حق ان سے سلب نہیں کرسکتا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شام کے بحران کے حل کے لئے قومی مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کا مسئلہ بیرونی مداخلت کے بغیر، ہمہ گیر قومی مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110